چائلڈ پورنوگرافی کیس کے مجرم کی سزا کے خلاف اپیل مسترد

لاہور (پبلک نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے چائلڈ پورنوگرافی کیس کے مجرم کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کر دی۔ درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ ٹرائل کورٹ نے مجرم کو حقائق کے برعکس سزا سنائی، وفاقی حکومت کے وکیل کا مؤقف تھا کہ مجرم کیخلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں، ٹرائل کورٹ نے حقائق کے عین مطابق اور ثبوتوں کی روشنی میں سزا سنائی۔

 

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے مجرم سعادت امین کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔ درخواست میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ مجرم کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ ٹرائل کورٹ نے ناکافی شواہد کے باوجود سعادت امین کو 7 برس قید کی سزا سنائی۔ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کا اطلاق مجرم پر نہیں ہوتا لہذا سزا کا کالعدم قرار دی جائے۔

 

وفاقی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان نے کہا کہ مجرم چائلڈ پورنو گرافی کے عالمی گروہ کا حصہ ہے۔ حکومتی وکیل نے بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے شواہد کی جانچ کے بعد سزا سنائی، مجرم سنگین جرم کا مرتکب ہوا اور کسی رعایت کا مستحق نہیں ہے۔ انہوں نے سزا کیخلاف اپیل مسترد کرنے کی استدعا کی۔

 

فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر لاہور ہائیکورٹ نے چائلڈ پورنو گرافی کے مجرم کی سزا کیخلاف اپیل مسترد کر دی۔ مجرم اپنی سات سال کی سزا پوری کرے گا۔ عدالتی فیصلے کے بعد سعادت امین کی ضمانت کا فیصلہ بھی غیر موثر ہوگیا۔

احمد علی کیف  4 ماه پہلے

متعلقہ خبریں