چمگادڑوں میں 6 نئے کرونا وائرسز کی تصدیق

 

پبلک نیوز: سائنس دانوں نے چمگادڑوں میں چھپے مزید 6 نئے وائرس دریافت کر لیے ہیں، جو سارس کو وِڈ 2 (SARS-CoV2) کی فیملی سے ہیں، جو کو وِڈ نائنٹین کا سبب بنتے ہیں۔

 

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سائنس دانوں نے میانمار کے چمگادڑوں میں 6 نئے وائرس کا پتا لگا لیا ہے، جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ سارس کو وڈ 2 کی فیملی سے ہیں، جو کرونا وائرس کی وجہ بنتے ہیں، تاہم یہ جینیاتی طور پر حالیہ وبا سے قربت نہیں رکھتے۔

 

بتایا گیا ہے کہ یہ نئے وائرس چمگادڑوں کی تین مختلف انواع میں پائے گئے ہیں، جن میں گریٹ ایشیاٹک یلو ہاؤس بَیٹ، رِنکل لپڈ فری ٹیلڈ بَیٹ، اور ہارس فیلڈ لیف نوزڈ بَیٹ شامل ہیں۔

 

تحقیقی ٹیم کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ یہ وائرس انسانی صحت کے لیے خطرہ بنتے ہوئے ایک نوع سے دوسری نوع میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔

 

یہ تحقیق اسمتھسنین انسٹی ٹیوٹ کے گلوبل ہیلتھ پروگرام کے محققین نے کی ہے، جنھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ماہرین کو اس تحقیق سے چمگادڑوں میں کرونا وائرسز کے تنوع کو سمجھنے میں مدد ملے گی، اور وہ بر وقت نئے انفکشس ڈیزیز سے بچاؤ کے لیے کوشش کر سکیں گے۔

 

اس تحقیق کے سربراہ مارک والیٹوٹو نے اپنے بیان میں کہا کہ وائرل وبائیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ انسانی صحت جنگلی حیات کی صحت اور ان کے ماحول کی صحت سے کس قدر قریبی تعلق رکھتی ہے۔ مذکورہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق مئی 2016 سے اگست 2018 کے درمیان 750 سیمپلز اکھٹے کیے گئے تھے، ان سیمپلز کو پھر ٹیسٹ کیا گیا اور دیگر معلوم کرونا وائرسز کے ساتھ ان کا موازنہ کیا گیا، تو 6 نئے وائرسز کا انکشاف ہوا۔

 

ان نئے وائرسز میں سے ایک کو PREDICT-CoV-90، ایک کو PREDICT-CoV-47، ایک کو PREDICT-CoV-82، ایک کو PREDICT-CoV-92، ایک کو PREDICT-CoV-93، اور ایک کو PREDICT-CoV-96 کا نام دیا گیا ہے۔

 

اس تحقیق کی شریک مصنفہ سوزان میری کا کہنا تھا کہ متعدد کرونا وائرسز سے انسانوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا، تاہم ان بیماریوں کا وقت سے پہلے پتا لگانا ضروری ہے تاکہ کسی خطرے کا پہلے پتا چلایا جا سکے۔

احمد علی کیف  5 ماه پہلے

متعلقہ خبریں